سکویڈ پراسیسنگ کمپنی میں غیر ملکی محنت کش سانس گھٹنے سے ہلاک

silhouette-3347559_960_720

گزشتہ ١٠ ستمبر کو گیونگبوک یونگدوک کے علاقے میں واقع ایک سکویڈ پراسیسنگ کمپنی میں کام کرتے ہوئے سانس گھٹنے سے ٤ غیر ملکی محنت کش جان کی بازی ہر گئے

تھائی لینڈ سے تعلق رکھنے والے ٢ اور ویتنام سے تعلق رکھنے والے ١ کل تین غیر ملکی محنت کشوں کو مردہ حالت میں قریبی ہسپتال میں منتقل کیا گیا. جبکہ ایک اور غیر ملکی محنت کش ویتنامی شہری کو سانس چلتے ہوئے لیکن بیہوشی کی حالت میں قریبی ہسپتال میں منتقل کیا گیا اگرچہ ١١ تاریخ کی صبح کو فوت ہو گیا.

فائر ڈیپارٹمنٹ کےعہدیداران کے مطابق ٹینک کے اندر تقریباً ایک فٹ تک سکویڈ کی آنتوں وغیرہ جیسے بوسیدہ مواد بھر رکھا تھا اور چاروں غیر ملکی محنت کش بیہوشی کی حالت میں پڑے ہوئے تھے. مزید یہ بھی بتایا گیا کہ ریسکیو کے وقت چاروں محنت کشوں نے ماسک نہیں پہن رکھے تھے اور نہ ہی کوئی اور حفاظتی سازوسامان زیر استعمال تھا. بوسیدہ مواد سے پیدا ہونے والی گیس اور بدبو کی وجہ سے سانس گھٹ کر تمام افراد کی موت واقع ہوئی

پولیس کی تحقیق کے مطابق چاروں محنت کش کمپنی کے احکامات پر تقریباً تین میٹر گہرائی کے انڈر گراؤنڈ سٹوریج ٹینک میں صفائی کےلئے گئے تھے لیکن کچھ ہی لمحوں کے بعد بیہوش ہوکر گر گئے جس کے فوراً بعد کمپنی کی جانب سے ١١٩ پر رابطہ کیا گیا

<경북 영덕 오징어업체서 이주노동자 질식사> 

지난 9월 10일 오후 경북 영덕에 위치한 오징어가공업체에서 발생한 질식 사고로 이주노동자 4명이 숨졌다. 

태국 출신 근로자 A씨와 B씨, 베트남 출신 근로자 C씨는 의식과 호흡이 없는 상태로 인근 병원으로 이송됐으나 끝내 눈을 뜨지 못했고, 이들과 함께 근무했던 베트남 근로자 D씨는 호흡은 하지만 의식이 없는 상태로 발견돼 병원으로 긴급 이송됐으나 11일 새벽 끝내 사망하고 말았다.

소방 관계자는 “탱크 안에는 오징어 내장 등 부패 물질이 30cm 가량 쌓여 있었고 근로자 4명이 엎어져 있었다”며 “구조 당시 이들은 마스크를 쓰지 않았고 다른 안전장비도 갖추지 않은 상태였다”라고 전했다. 이어 “부패 물질에서 발생한 유해가스에 이들이 질식한 것으로 추정된다”라고 덧붙였다.

경찰은 이주노동자 4명이 업체 지시로 약 3m 깊이 저장 탱크에 청소하러 들어가 얼마 지나지 않아 쓰러졌고 이를 업체 측이 발견해 119에 신고한 것으로 파악했다.

답글 남기기

아래 항목을 채우거나 오른쪽 아이콘 중 하나를 클릭하여 로그 인 하세요:

WordPress.com 로고

WordPress.com의 계정을 사용하여 댓글을 남깁니다. 로그아웃 /  변경 )

Google photo

Google의 계정을 사용하여 댓글을 남깁니다. 로그아웃 /  변경 )

Twitter 사진

Twitter의 계정을 사용하여 댓글을 남깁니다. 로그아웃 /  변경 )

Facebook 사진

Facebook의 계정을 사용하여 댓글을 남깁니다. 로그아웃 /  변경 )

%s에 연결하는 중