غیر ملکی محنت کشوں کے گرین ہاؤس میں مزید رہنے پر پابندی

크기변환_고용노동부_국_상하زراعت اور لائیوسٹری اسٹاک کے شعبوں میں کام کرنے والے غیر ملکی محنت کش اب سے مزید گرین ہاؤسز میں نہیں رہ سکیں گے اور می ٹو تحریک کے ساتھ قدم ملاتے ہوئے جنسی تشدّد کے جرائم میں ملوث کمپنیوں میں غیر ملکی ملازموں کی بھرتی کو بھی محدود  گا

غیر ملکی طور پر رہائش پزیر افراد کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے مزید سختی کی جائے گی اور رضاکارانہ طور پر اپنے ملک کی طرف واپس جانے کی حمایت میں بھی مضبوطی کی جائے گی

٢٩ مارچ کو وزیر برائے ایمپلائمنٹ اینڈ لیبر منسٹری ‘کم یونگ جو’ نے ایمپلائمنٹ پرمٹ سسٹم کے حوالے سے ویتنام، فلپائن، تھائی لینڈ، منگولیا، انڈونیشیا، سری لنکا، چین، ازبکستان، پاکستان، کمبوڈیا، نیپال، میانمر، کرغزستان، بنگلہ دیش، مشرقی تیمور اور لاوس کے سفیروں سے ملاقات کی  کم نے کہا کہ حکومت قریب سے جتنی جلد ممکن ہو سکے گا تاکہ تارکین وطن کارکنوں کو بہتر ماحول میں کام کر سکیں اور منصفانہ علاج حاصل کریں. اور اس بات کی یقین دہانی کروائی کہ غیر ملکی محنت کشوں کیلئے مزید بہتر ماحول اور سہولیات کو یقینی بنانے کیلئے بھرپور کاوشیں کی جائیں گی

اس موقعہ پر وزیر کم اور تمام ملکوں کے سفیروں نے غیر ملکی محنت کشوں اور ایس-ایم-ایز کے لئے ایک اشتراکی معاہدے پر اتفاق کیا اور کوریا میں مناسب قیام کیلئے بھی اپنی اپنی آراء پیش کیں

غیر ملکی محنت کشوں کے حقوق اور مفادات کی حفاظت کیلئے کچھ اقدامات کے جائیں گے جن میں لیبر کے قوانین، کوریا میں داخل ہونے کے بعد پہلے تین مہینے سخت نگرانی، کام کی جگہ کی تبدیلی اور رہائش کے متعلق اقدامات شامل ہیں

غیر قانونی قیام کی روک تھام کیلئے قانون کی پاسداری میں مزید مضبوطی، بحالی کی معاونت کو فروغ دینے اور تمام ممالک میں ٹرانسمیشن کے نظام کو بہتر بنانے کی تراکیب سامنے آئیں

<이주노동자 비닐하우스 숙소 금지, 성폭력 사업주 차단>

농축산분야 이주노동자들에게 비닐하우스 숙소 제공이 금지되고, 미투 운동과 발맞춰 성폭력 범죄 경력이 있는 사업주는 이주노동자 채용에 제한을 받게 된다.

불법체류자 단속 및 법 집행은 엄정해지고, 자진 귀국을 유도하는 재정착 지원은 강화한다.

3월 29일, 고용노동부(Ministry of Employment and Labor, MOEL) 김영주 장관은 고용허가제 송출국 대사들(베트남, 필리핀, 태국, 몽골, 인도네시아, 스리랑카, 중국, 우즈베키스탄, 파키스탄, 캄보디아, 네팔, 미얀마, 키르기즈스탄, 방글라데시, 동티모르, 라오스)과 간담회를 갖고 “외국인노동자가 더 나은 환경에서 일하고, 정당한 대우를 받을 수 있도록 최선을 다하겠다”며 이같이 밝혔다.

이날 김영주(Kim Young-joo) 장관과 각국 대사들은, 한국 내 중소기업과 이주노동자가 상생하는 고용허가제를 만들자는 데 의견을 같이하며, 적절한 체류 환경을 지원하기 위한 방안을 공유했다.

이주노동자 권익 보호 방안으로는 입국 전후 노동관계법령 및 고충해결 교육 확대, 입국 후 3개월 내 실시하는 현장 모니터링 강화, 신규 고용허가 인원 배정 시 숙소의 질적 수준 반영 등이 제시됐다.

불법체류를 막기 위한 방안으로는 엄정한 법 집행과 함께 재정착 지원 강화와 국가별 송출체계 개선 등이 나왔다.

 

답글 남기기

아래 항목을 채우거나 오른쪽 아이콘 중 하나를 클릭하여 로그 인 하세요:

WordPress.com 로고

WordPress.com의 계정을 사용하여 댓글을 남깁니다. 로그아웃 /  변경 )

Google+ photo

Google+의 계정을 사용하여 댓글을 남깁니다. 로그아웃 /  변경 )

Twitter 사진

Twitter의 계정을 사용하여 댓글을 남깁니다. 로그아웃 /  변경 )

Facebook 사진

Facebook의 계정을 사용하여 댓글을 남깁니다. 로그아웃 /  변경 )

%s에 연결하는 중