غیر رجسٹر شدہ غیر ملکی خواتین کیلئے بھی “می ٹو” شکایت ممکن

metoo-2859980_640

اکیس مارچ کو وزارت انصاف کی جانب سے واضح کیا گیا کہ غیر ملکی خواتین کیساتھ ہونے والے جنسی تشدّد کے خلاف مشترکہ اقدامات کے ذریعے قابو پایا جائے گا

وزارت انصاف نے اس بات کی تصدیق کی کہ جنسی تشدّد کا شکار ہونے والی غیر ملکی خواتین کی بڑی تعداد کے غیر فعال رد عمل کی بڑی وجوہات میں کورین زبان معلوم نہ ہونا، معلومات کی قلت، غیر رجسٹر شدہ خواتین یعنی غیر قانونی رہائش کی شکایت کا خوف وغیرہ ہیں، جس کے بعد وزارت انصاف نے نئے اقدامات کئے ہیں

جنسی تشدد کا شکار ہونے والی غیر ملکی خواتین قانونی و غیر قانونی رجسٹریشن سے بلا واسطہ مکمّل قانونی رہنمائی حاصل کر سکتی ہیں

اس حمایت کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے وزارت انصاف نے موجودہ قانون کی نظر ثانی کی جس کے مطابق سرکاری افسر کیلئے لازم ہے کہ تشدد کا شکار ہونے والی غیر ملکی خواتین کی شناختی معلومات امیگریشن دفتر تک پہنچائی جائے لیکن اس ترمیم کے تحت امیگریشن افسر کیلئے امیگریشن آفس میں معلومات فراہم کرنے کا عمل غیر لازم قرار دے دیا گیا ہے

مزید یہ کہ، وزارت انصاف نے فارنر انفارمیشن سینٹر 1345 کے ذریعے بیس مختلف زبانوں میں جنسی تشدّد کا شکار ہونے والی غیر ملکی خواتین تک معلومات کی رسائی اور جنسی تشدّد کی شکایات موصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے

<미등록 이주여성도 ‘미투’ 신고 가능>

3월 21일, 법무부는 이주여성 성폭력 종합 대책을 마련해 추진해 나가겠다고 밝혔다.

법무부는 이주여성 성폭력 피해자들의 소극적 대응의 주원인이 한국어 부족, 정보 부족, 미등록자 신고의 두려움에 있다는 점을 확인하고 새로운 정책을 마련했다.

성폭력 피해 이주여성은 체류 상태에 상관 없이 법적 구제절차를 받을 수 있게 된다.

이를 위해 법무부는 공무원이 범죄 피해를 본 외국인의 신원을 출입국관리사무소에 반드시 통보하도록 한 현행 규정을 고쳐 성범죄 피해 이주민에 대해서는 통보 의무를 면제하기로 했다.

또한 법무부는 20개 다국어 서비스를 지원하는 외국인종합안내센터(☎1345)를 활용해 성폭력 피해자들에게 정보를 제공하고 피해 신고를 지원하기로 했다.

답글 남기기

아래 항목을 채우거나 오른쪽 아이콘 중 하나를 클릭하여 로그 인 하세요:

WordPress.com 로고

WordPress.com의 계정을 사용하여 댓글을 남깁니다. 로그아웃 /  변경 )

Google+ photo

Google+의 계정을 사용하여 댓글을 남깁니다. 로그아웃 /  변경 )

Twitter 사진

Twitter의 계정을 사용하여 댓글을 남깁니다. 로그아웃 /  변경 )

Facebook 사진

Facebook의 계정을 사용하여 댓글을 남깁니다. 로그아웃 /  변경 )

w

%s에 연결하는 중